28 C
Lahore
Friday, July 30, 2021
timeline_pre_loader
سوانح حیات قُطبِ مدینہ سرکار حاجی غلام حیدر قادری ضیائی
حرفِ تشکر
کم پڑ گئےلغت کے سارےلفظ جملے ترکیبیں استعارے اصطلاح و معانی منظوم اشعار کی روانی سب کم پڑ گئے ۔ یہ جو چند سطریں لکھنے کی جسارت کی ہیں یہ ہر گز اس ہستی کی شایان شان نہیں جس کے مسکرانے سے غنچے کھلتے ہیں ۔ جس کی خوشبو سے ماحول کو تازگی میسر ہے ۔ جس کی سانسوں سے باد نسیم کی شفگتگی ہے ۔ جس کے جلال سے بجلی کی کڑک ہے جس کے ضیا سے آفتاب کا جوبن ہے ۔ جس کے نور سے چاندنی کا دھوون ہے ۔ جس کے گریا سے بادلوں کی رم جھم ہے ۔ جس کے مزاج سے جاری یہ موسم ہے ۔ وہ جس جا موجود ہوں تو خزاں میں بہار آ جائے وہ جو گزریں تو صحرا میں نکھار آ جائے ۔ وہ جو تک لیں تو بے چینوں کو قرار آ جائے ۔ وہ جو ہنس دیں تو برکت کا انبار آ جائے ۔ وہ جو چلیں تو موجوں کو روانی ملے ۔ ان کے اٹھنے سے گھٹاوں کو پانی ملے ۔ ان کی گفتار سے گلشن کو جوانی ملے ۔ ان کے رخسار سے سحر عنابی لگے ۔ ہونٹوں پہ تبسم تو شام گلابی لگے ۔ ان کا رات کا جاگنا خلق کا ہے سکوں ۔ ان کا اک نگاہ تکنا عاشقوں کا جنوں ۔ یہ تعریفی توصیفی تمہیدی تمجیدی کلمات اس لیے نہیں کہ یہ میرے صاحب میرے رہبر میرے یاور میرے حیدر میرے بابا صاحبا ہیں بلکہ یہ اس خاکستر و کمتر و احقر بندہ غلیظ و ناچیز کا سالوں سے مشاہدہ ہے ۔ اور مجھ بے وقعت سے بڑھ کر ایسے مشاہدات کے حامل محبینِ حیدر موجود ہیں جو پاسِ شریعت رکھتے ہوئے ادب و نیاز سے خاموش سر تسلیم خم کیے بیٹھے ہیں۔ صد مبارکباد اس شخص کو جس نے قطب مدینہ سلطان الفقر کی زیارت کی ہزار مبارکباد اس کو جس نے آپ کی محفل پائی ۔ لاکھوں مبارکباد اس خوشنصیب کو جس نے اپنے آپ کو آپ کے سپرد کیا ۔ آپ کا مرید ہوا ۔کروڑوں مبارکباد جس نے آپ سے محبت کی اور لا تعداد اس کو جس نے آپ سے عشق کیا ۔ اور کیا کہنے ان خوشنصیب ترین ہستیوں کے جنہیں آپ سیدی سرکار نے پسند فرمایا جو آپ کے دل کو بھا گئیے ۔ جو آپ کےدل کا قرار بنے ۔ جو سکھیاں سدا کے لیے سہاگن ہو گئیں ۔ کیا کہنے ایسے صاحبان کے ۔سبحان اللہ ۔ ماشا ء اللہ ۔ میں تو قطعی نہ شاعر ادیب نہ سخن ور نہ دانش ور ۔ صاحب حکمت لوگوں کی جوتیوں پہ لگی خاک جیسا بھی نہیں ۔ نہ ہی ڈیزائننگ پر کوئی خاص عبور حاصل تھا۔ تو پھر کیا لکھتا اور کیا بناتا ۔ بس یہ عنایات کے سوا اور کچھ نہیں ۔ ہزاروں لاکھوں کروڑوں ان گنت احسانات میں یہ بھی آپ سیدی مرشدی مولائی کا مجھ خاکسار پر احسان عظیم ہے جو اس البم کو آپ نے اپنی توجہ و نگاہ کرم سے بنوا دیا ۔ یہ کار خیر و عظیم جو میری بسات اور اوقات سے بڑھ کر ہے اس کے صدقے ایک ہی التجا دعا تمنا ہے کہ اللہ کریم مجھے خاک در حیدر بنائے اور بنا کر اٹھائے ۔ میں بھی اپنے پیا من بھا جاوں ۔ کوئی ایسا کام کر جاوں کے پریتم مجھ سے راضی ہو جائے اور سہاگنوں میں میرا نام بھی شامل ہو جائے ۔ حیدری رہوں حیدری جیوں حیدری مروں اور روز محشر حیدری اٹھایا جاوں ۔ حیدریم قلندرم مستم بردہ ء حیدر
تعارف
آپ کا اسمِ گرامی غلام حیدر قادری رضوی ضیائی ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق برصغیر پاک و ہندکے شہر شاہدرہ سے ہے ۔آپ سلسلہ قادریہ کے بزرگانِ دین میں سے ہیں ۔آپ کے دادا مرشد اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی ؒ کو دنیا بیسویں صدی کے مجدد اور حسان الہند کے نام سے جانتی ہے۔آپ کو خلیفہ اول اعلیٰ حضرت، ضیا ء الدین ؒ مدنی سے مدینہ شریف میں بالمشافہ بیعت کا شرف حاصل ہے۔بعد ازاں آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے پینتیس سال حضرت قبلہ صوفی صدیق الرفاعی ؒ کی صحبت میں گزار کر ان سے فقر کے تمام مدارج اور طریقت کے تمام اسلوب پر عبور حاصل کیا ۔اور اسی دوران خلق خدا کو اپنے دریائے فیض کرم سے سیراب فرمانا شروع کیا ۔اور آج بھی جودو سخا کا بحرِ بیکراں اپنی تمام تر جولانیاں سمیٹے ڈوبتے ہوئے بیڑوں کو پار لگا رہا ہے۔

آباؤ اجداد

قبلہ سیدی سرکار کے آباؤ اجداد کا تعلق برصغیر پاک و ہندکے شہر شاہدرہ سے ہے آپ کے دادا حضور کا اسمِ مبارک قبلہ حضرت علم دین تھا۔ مگر آپ کی پیدائش سے قبل باغبانپورہ میں مادھولال حسین دربار کے عقب میں رہائش اختیار فرمائی۔

1941

تاریخِ پیدائش

سیّدی و سندی و مولائی راحت العاشقیں طبیبِ حزیں رہبر دنیا و دیں آفتابِ ولایت نورِ ہدایت پیر طریقت رہبر شریعت حضرت قبلہ و کعبہ جناب عزت ماٰب حاجی غلام حیدر قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم مد ظلہ عالی پاک سرکار بروز پیر شریف مہینہ بھادوں چاند کی چودھویں را ولایت کے افق کے چاند دا رِ عشق و لامکاں سے دارِ بیکراں میں فرشِ دنیا پر تشریف لائے شناختی کارڈ کے مطابق آپ کی تاریخ ولادت 2دسمبر1941 ء ہے۔

جائے پیدائش

قبلہ و کعبہ مالکِ لسانِ کُن سرکار حاجی غلام حیدرؔ مد ظلہ العالی باغبانپورہ شریف میں دنیائے اسلام کی دو بزرگ و برتر ہستیوں نشانِ محبت و وفا حضرت سرکار لال حُسین شاہ صاحبؒ اور سرکار مادھوؒ صاحب کے دربار اقدس کے عقب میں واقع علاقہ میں ایک نہایت عالی مرتبت ہستی پابند صوم و صلواۃ سنت نبوی پر عمل پیرا قبلہ حضرت غلام محمد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے گھر پیدا ہوئے ۔ قبلہ سرکار غلام محمدؒ کی کل اولاد پاک نو ہیں جن میں آپ سرکارکا مقام بالحاظ تعداد چھٹا ہے۔

والد ماجد

حضرت غلام محمدؒ وقت کے اعلیٰ درویش تھے۔ آپؒ محنت کش او ربہت قناعت پسند انسان تھے ۔پیشے کے لحاظ سے ایک درزی تھے ۔ آپ ؒ نے ساری عمر اپنی نیک اولاد کی پرورش رزقِ حلال سے فرمائی ۔آپؒ انتہائی عبادت گزار تھے۔ بعد از نماز فجر مکمل پنج سورہ پڑھنا آپؒ کا اپنے وصال تک معمول رہا اور بعد از نماز مغرب چھ نوافل پڑھ کر حضور پر نور سیّد یوم النشور تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق اوّل شافعیِ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدی حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی روح پرفتوح کو ہدیہ فرمایا کرتے تھے۔

بچپن

ٓ اوصافِ ولائیت بچپن ہی سے نمایاں تھے۔ آپ کے انداز و اطوار عام بچوں سے با لکل جدا تھے۔کمسن بچوں کی طرح فضول مشاغل میں شرکت نہیں فرماتے تھے۔ آپ نے کبھی اپنے والد گرامی سے جیب خرچ کا تقاضا نہیں فرمایا۔ آپ کے والد گرامی بھی آپ کی اس ادا ئے بے نیازی پر حیرت زدہ ہوجاتے کہ اتنی کمسن عمر میں بھی اس شہزادے کو عام بچوں کی طرح کھلونوں اور جیب خرچ کا شوق نہیں جبکہ بڑے شہزادے ان کے سامنے مجھ سے پیسے لیتے ہیں اور یہ الگ تھلگ بے پرواہ کھڑے رہتے ہیں۔

ابتدائی تعلیم

اپنی والدہ ماجدہ سیّدہ کی آغوشِ تربیت اور والد ماجدساجد کی نورانی صحبت کے ساتھ ساتھ آپ سرکارصاحبِ اسرار نے ابتدائی تعلیم باغبانپورہ شریف سے حاصل فرمائی۔دوسری جماعت تک آپ کارپوریشن کے سکول میں زیرِ تعلیم رہے پھر تیسری اور چوتھی جماعت کے لیے مندر والا سکول میں حصولِ علم کے لیے کوشاں رہے۔پرائمری کلاس سے میٹرک تک آپ گورنمنٹ ہائی سکول باغبانپورہ شریف لاہورمیں علم کے چراغ سے منورہوتے رہے۔

اعلی تعلیم

میٹرک کے بعد آپ نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں ایف۔ایس۔سی (نان۔میڈیکل ) میں داخلہ لیا۔بعد ازاں آپ نے سرکاری ملازمت کے دوران بی۔اے کا امتحان پرائیویٹ طور پر پاس کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے فاضل فارسی کا امتحان بھی پاس کیا۔

ملازمت

معرفتِ خداوندی کے قاسم سیّدی و مولائی سرکار قبلہ حضرت حاجی غلام حیدرؔ ضیائی مد ظلہ العالی رقیق القلب اور دردِ انسانیت رکھنے والی شخصیت توہیں ہی مگر آپ ہمیشہ سے ہی ایک انتہائی خودار انسان اور اقبال ؒ کی خودی کے رموز سے آشنا اوراسکا عین مظہر ہیں۔ اسی واسطے آپ نے دورانِ تعلیم ہی اپنے والدِ گرامی کا دست و بازو بننے کا ارادہ فرما یا اور 10مئی 1960 ء سے اے۔جی آفس لاہور میں ملازمت کے فرائض سر انجام فرمانے لگے۔

شادی مبارک

11 ربیع الاوّل کی مبارک رات کو جب عاشقانِ مصطفٰی ﷺ جا بجا حضور ؐ کی آمد کی خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے وہی اُن کی محبت سے سرشار یہ عشوہ ساز مدنی ماہی ڈھولن کی سنتِ مبارکہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہے تھے۔رسمِ ولیمہ 12 ربیع النور کے با برکت اور پُر مسرت دن کو بفضلِ تعالیٰ ادا ہوئی۔

آلِ پاک

خدائے عزو جل نے آپ سرکار کو پنجتن پاک کے صدقے عدد پانچ کی نسبت پانچ نہایت عالیشان اور نیک سیرت اولادوں سے نوازا جن میں ۲ شہزادے اور ۳ شہزادیاں شامل ہیں ۔ راقم تحریر نے دیکھا ایک مثالی خاندان ۔ بہترین تابعدار فرمانبردار اولادیں ۔ جن میں مرتبہ کا کوئی لالچ نہیں ۔ باوجود اس کہ وہ اپنے والد محترم کے مقام و مرتبہ سے اگاہ ہیں ۔ بڑے بڑے علماء دانشور ثنا خوان پیروں درویشوں اور فقراء کو آپ سیدی سرکار کے در پر ادب و نیاز سے سر جھکاتے ہوئے دیکھا مگر کبھی آپ سیدی سرکار کے مریدوں عقیدت مندوں اور محبین سے دنیاوی لالچ اٹھانے کی کوشش نہیں کی ۔

آلِ پاک

البتہ مریدین محبین نے آپ سیدی سرکار کا قرب حاصل کرنے کی خاطر اور اپنے دینی دنیاوی اخروی لالچ کے لیے اپنے طور پر بڑھ چڑھ کر آپ کے خانوادے کی اگر کسی طرح کی خدمت کرنا چاہی تو وہ بھی آپ کی آل پاک خصوصا آپ کے صاحبزدادگان نے حتی الوسع کوشش کی کہ اس خدمت کو قبول نہ کیا جائے اور اگر کسی سالک کا اخلاص اور اس کی عقیدت یا اس کی عاجزی نے آپ سیدی سرکار کی آل پاک کو متاثر کیا تو پھر یہ اس سالک پر ان کا خاص کرم ہوا کہ اس کی اس خدمت کو قبول فرما لیا گیا ۔

آلِ پاک

اور میرے صاحب و سردار کی شان تو یہ ہے کہ آپ سیدی نے فرمایا کہ مجھے اگر کسی نے پانی کا گلاس بھی اٹھا کر پلایا ہو تو میں تب تک نہیں سوتا جب تک اس کے اس احسان کا بدلہ کسی صورت میں نہ اتار لوں ۔ اور فقیر واصل با اللہ جس کے اختیار میں اللہ نے کن کی کنجی کی خیرات عطا فرما دی ہو وہ اس سالک و محب کو کیسی کیسی دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے نوازتے ہوں گے ۔

کاروبار

1970ء میں قاسمِ حُب محمدؐ و آلِ محمدؐ نے اے ۔جی آفس کی ملازم کو خیر آباد فرمایا اور ایک عاشق رسول ﷺ نے حضورؐ پُر نور کی سنتِ مبارکہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کپڑے کا کاروبار شروع فرمایا۔حضوؐر سرورِ کائنات کی ولادتِ پاک کی بارھویں کی نسبت سے 12 جولائی1970 ء کو اس مبارک کام کا آغاز بدستِ مبارک سراج الاتقیاء تاج الاصفیاء حضرت قبلہ صوفی صدیق صاحب الرفاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ہوا اور انھوں نے ہی پہلے گاہک کے طور پر اپنی والدہ ماجدہ طیبہ کے لیے کپڑا خرید فرما کر دوکان کو برکتوں سے آراستہ فرما دیا۔آپکی یہ دوکان باغبانپورہ شریف سلیم مارکیٹ میں واقع ہے اور آج کل آپکے چھوٹے صاحبزادے حضرت والا شان جناب محمد جنیدحیدر قادری مدظلہ عالی کی ملکیت میں زینت خلائق ہے۔

بیعت

1970ء وہ مبارک سال تھا جس میںآفتابِ ہدایت نور ولایت قبلہ وکعبہ سیّدی سرکار حاجی غلام حیدر قادری ضیائی مد ظلہ ا لعالی کو اللہ تبارک تعالیٰ نے شمعِ محفل رونق محفل اور جانِ محفل بنانے کے لیے ملازمت سے استعفیٰ پھر کاروبار اور بیاہ کے بعد حج بیت اللہ کے فرائض عظیم سے سبکدوش فرمایا۔

بیعت

دورانِ حج زیارتِ دیارِ یاراں کوچہء جاناں عرشِ مدینہ طیبہ منورہ میں مسجدِنبوی ﷺ کے بالمقابل ڈاکخانہ والی گلی میں حسّان الہند عبد مصطفٰیؐ امامِ اہل سنت والجماعت اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ و شاگردِ اوّلین مدفون پائے سیّدہ مطہرہ منورہ ساجدہ عابدہ زاہدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا و آلِ علیہا حضرت قبلہ و کعبہ جناب ضیاء الدین مہاجر مدنی رحمتہ اللہ تعا لیٰ علیہ کے دستِ اقدس و شفقت پر مشرفِ بیعت ہو کر مسندِ عرفان پربراجمان ہوئے ۔

سیدی ومولائی جان و جہان کا حسن و جمال

آپ کردار و اطوار اور مرتبہ و افکار میں تو بلند و بر تر ہیں ہی قطب الاقطاب غوث الغیاث سلطان افقراء کے منصب پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کا جسد پیکر نور کا ایسا ہالہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانے بھر کی نازنینوں حسیناؤں اور جنت کی حوروں اور غلمان کی چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے۔ آپ کے رخ انور کی ضیا کے سامنے ماہتاب و آفتاب منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ آپ کی پیشانی مبارک پر درج نقش جس میں اللہ محمد ؐ اور علی ؑ کے اسمائے پاک واضح طور پر نظر آتے ہیں جو آپ سیدی پیکر کمال و بیمثال کے بلند مرتبت ہونے کی دلیل ہیں۔

سیدی ومولائی جان و جہان کا حسن و جمال

آپ کے ابرو مبارک آپ کی نگاہ ناز پر یوں محسوس ہوتے ہیں جیسے تنی ہوئی کمان ہو اور ان میں سے آپ کی چشمِ ہوش ربا کے پے در پے تیر نکل کر عاشقوں کے دل و جگر کو یوں گھائل کرتے چلے جاتے ہیں کہ بسمل تڑپ تڑپ کر ہر بار ایک نئے وار کا منتظر رہتا ہے۔ہر بار ایک نئے زخم کو ترستا ہے۔ اپنے سر کو آپ کے قدموں میں نثار ہونے کو بچھا دیتا ہے۔ اپنا سب کچھ آپ پر قربان کر دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔

سیدی ومولائی جان و جہان کا حسن و جمال

پلکوں کی چلمن کی جنبش سے نسیم صبح کی سرمستی جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ آپ کے رخسار مبارک کی سرخی آپ سیدی مولائے من جان من کی گوری رنگت پر یوں محسوس ہوتی ہے جیسے شفق کے سرخ ڈوروں نے وقت سحر آسمان کے کناروں پر ڈیرے جما لئے ہوں۔ آپ کی بینی مبارک کی رفعت آپ کی عظمت و شان کی گواہی ہے ۔

سیدی ومولائی جان و جہان کا حسن و جمال

آپ سیدی جہان من کے لبان مقدسہ جواہرات کی وہ کلید ہیں جن کے کھلتے ہی عرفان کے سب گنجینے دلوں کی اجڑی ہوئی مفلوک الحال بستیو ں کو شاہانہ تاج پہنانے نکل پڑتے ہیں۔ آپ کے دہن مبارک کا لعاب پاک شفائے کل امراض ہے۔آپ کے تبسم سے گوہر سپیدہ کا جھرمٹ عیاں ہو کر آنکھوں کو خیرہ کیے دیتا ہے۔اور ان موتیوں کے دربان کے پیچھے کسی شرمیلی دلہن کی طرح خاموشی کا حجاب اوڑھتی ہوئی لسان مبارک جب اپنے محبوب ربّ قدیر کے حکم سے اسرار کے پردے وا فرماتی ہے تو حق کے متلاشی یک گام منزل پر پہنچ جاتے ہیں جبکہ باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے ۔نفسانیت اور شیطانیت کے بت فاتح خیبر شیر خدا کے غلام کے کلام کی حرارت میں پگھل کے ریزہ ریزہ ہو کر زمین بوس ہو جاتے ہیں۔

سیدی ومولائی جان و جہان کا حسن و جمال

آپ کی دراز قامت اور متانت، دید والے پر ایک ایسی سحر انگیز جام کی بوند ٹپکاتی ہے کہ وہ ازل سے پیاسے رند کی طرح آپ کا میخانہ ڈھونڈتا ہوا قدموں میں ڈھیر ہو جاتا ہے۔ اور اگر آپ کی نگاہِ جوانائے قلب کے ساغر کو وہ رند پسند آ گیا تو پھر خوش قسمتی کے دروازے اس پر کھول کر مستقل رندوں کی قطار میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

سیدی ومولائی جان و جہان کا حسن و جمال

آپ کے نرم و نازک رنگِ ابیض سے مزیّن دست اقدس وہ نوری چادریں ہیں ۔جن کے سائے تلے ہزاروں یتیموں کے آشیانے ہیں۔بیواؤں کے کاشانے ہیں ۔ غرباء کی تقدیر ہے ۔گناہگاروں کی تطہیر ہے۔دکھیاروں کی دوا ہے ۔ بیماروں کی شفا ہے۔ بے سہاروں کا آسراء ہے ۔ ٹھکرائے ہوؤں کی پناہ ہے۔غمزدوں کی تسکین ہے ۔عارفوں کی تمکین ہے۔ آپ کے مرمریں پر لحم مستحکم قدموں میں سالکوں کا جہان ہے عاشقوں کا ایمان ہے ۔

پیکرِ شاہکار کے اخلاق و اطوار مبارکہ

آپ سیدی سردار نابغہ روزگار غمخوار غربا اور مساکین پر نہایت محبت و شفقت فرماتے ہیں۔ نماز عصر سے لیکر رات گئے تک مخلوق خدا آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتی رہتی ہے۔ آپ کے آستانہ عالیہ کا در ہر خاص و عام کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اور آپ ہر نئے آنے والے مہمان کے ساتھ انتہائی عزت و تکریم سے پیش آتے ہیں حتی کہ آنے والا کتنا ہی غریب و بے کس کیوں نہ ہو خود کو کسی ملک کا بادشاہ تصور کرنے لگتا ہے۔

اولیا ء اللہ سے محبت
اولیا ء اللہ کے ساتھ آپ سیّدی سرکار کی محبت تو والہانہ ہے مگر ان اولیاء کرام کی سیّدی سرکار سے محبت اور انداز کرم کا کیا کہنا کہ جس بھی دربار شریف پر آپ حاضری کے لئے تشریف لے جاتے ہیں تو وہاں نہایت عالیشان انداز سے آپ کا استقبال اور احترام فرمایا جاتا ہے۔ جبکہ آپ کے بارے میں نہ کسی کو آنے کی اطلاع دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی پروٹوکول کی درخواست دی جاتی ہے ۔مگر کیا انتظامیہ کیا سکیورٹی اور کیا درویش وملنگ کیا زائرین سب آپ کی شان ولائت کے دائرے میں کھچے کچھے آپ کی نگاہِ ناز سے جامِ الفت پینے دوڑے چلے آتے ہیں ۔
شہنشاہِ عشق حضرت بابا بُلّھے شاہ سرکار رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت بابا بُلھے شاہ صاحب سے سیّدی سرکار کی محبت اگر والہانہ کہیں تو بجا ہو گا ۔ہر سال سیّدی سرکار بُلھے شاہ صاحب کے عرس پر بڑے اہتمام سے مریدین کے ہمراہ تشریف لے جاتے ہیں اور انتہائی رش ہونے کے باوجود بھی سرکار کے لئے بابا بلھے شاہ صاحب کی طرف سے الگ پروٹوکول کا بندوبست ہوتا ہے یوں کہ وہاں تعینات پولیس والے بھی سیّدی سرکار کے استقبال کے لئے الگ سے دروازے کھول دیتے ہیں اورآج تک کبھی کسی مرید کی طرف سے سکیورٹی کے کسی شخص سے سفارش کیلئے نہیں کہا گیا۔ جب بھی سیّدی سرکار عرس شریف کے لئے دربار عالیہ پہنچتے ہیں تو مریدین کے علاوہ ایک زائرین کا ایک جم غفیر آپ کے دیدار عالیہ کے لئے بیتاب ہو جاتا ہے۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ تو بابا بُلھے شاہ صاحب سرکار خود بنفس نفیس تشریف لے آئے ہیں۔

بادشاہ اولیاء گورنر لاہور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

داتا گنج بخش علی ہجویری سے سیّدی سرکار کی محبت اوائل عمری سے ہی قائم ہے۔ ہر جمعرات کو بیلیوں کے ہمراہ آستانہ عالیہ حیدریہ قادریہ سے ایک قافلہ سیّدی سرکار کے زیر سایہ داتا گنج بخش حاضری کے لئے کئی عشروں تک جاتا رہاہے۔آپ ہمیشہ سونے والے دروازے کے سامنے عجزو نیاز سے داتا حضور سے شرف ملاقات فرماتے ہیں اور حاجت مندوں کی حاجتیں داتا حضور کے وسیلے سے پوری فرماتے ہیں۔

سلطان العارفین حضرت حق باہو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

داتا گنج بخش علی ہجویری سے سیّدی سرکار کی محبت اوائل عمری سے ہی قائم ہے۔ ہر جمعرات کو بیلیوں کے ہمراہ آستانہ عالیہ حیدریہ قادریہ سے ایک قافلہ سیّدی سرکار کے زیر سایہ داتا گنج بخش حاضری کے لئے کئی عشروں تک جاتا رہاہے۔آپ ہمیشہ سونے والے دروازے کے سامنے عجزو نیاز سے داتا حضور سے شرف ملاقات فرماتے ہیں اور حاجت مندوں کی حاجتیں داتا حضور کے وسیلے سے پوری فرماتے ہیں۔

قدوۃالاولیا ء حضرت سیّدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضور قدوۃالاولیاء ؒ سے آپ سیّدی سرکار کی محبت کا تعلق منہاج القرآن کے دور سے بھی بہت پہلے سے قائم تھا ۔ان کے دور حیات میں آپ سیّدی اکژان کی محفل پاک میں شریک ہو کر اکتساب فیض فرماتے۔ آپ سیّدی نے کراچی میں حضور قدوۃ الاولیاء کے در دولت شارع الگیانی میں بھی حاضری کا شرف حاصل کیا ۔ سیّدی فرماتے ہیں کہ مجھے حضور قدوۃ الاولیاء ؒ سے متعدد بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا مگر یہ بات بہت دیر بعد جا کر معلوم ہوئی کہ آپ کی ظاہری آنکھ کی بینائی موجود نہیں رہی تھی اور آپ کی باطنی بینائی کی کرامت بہت کم لوگوں پر عیاں رہی۔اپنی یاداشتوں کا زکر فرماتے ہیں کہ ایک بار طاہرالقادری صاحب نے حضور قدوۃ الاولیا ء کے لیے ادویات منگوانے کا شرف مجھے منتخب فرما کر بخشاء۔ ابھی سیّدی نے بیعت فرمانا شروع نہیں کیا تھا مگر آپ نے اپنے اہل و عیال اور دیگر محبین کو حضور قدوۃ الاولیاء ؒ کے دست اقدس پر شرفِ بیعت حاصل کرنے کا درس دیا اوریوں آپ سیّدی کی زوجہ محترمہ ( ماں جی حضور) اور آپ کے صاحبزادے جناب سجاد حیدر صاحب نے سیّدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی ؒ کے دست شفقت پر بیعت کی۔ آپ سیّدی کے بیڈ کے عقب واقع کتب الماری کے وسط میں حضور قدوۃ الاولیا ء ؒ کی نہایت خوبصورت انداز میں تصویر آویزاں ہے ۔

سردارِ حکمت و عرفان سراج الاتقیاء تاج لا صفیاء قبلہ حضرت صوفی صدیق صاحب الرفاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ

سرکار حاجی غلام حیدرقادری ضیا ئی ا ے۔جی آفس کی ملازمت کے دوران سلسلہ عالیہ رفاعیہ کی ایک عالیشان اور بلند مرتبت ہستی قبلہ و کعبہ جناب سیّدی حضرت صوفی صدیق الرفاعی صاحب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مشرف بہ ملاقات ہوئے ۔پہلی ہی ملاقات میں راہِ وفا کے مسافروں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا او ر تسکین و تربیتِ روح کی خاطر رفاقت کا یہ سلسلہ بلا ناغہ صوفی صاحبؒ کے وصال تک ظاہری دنیا میں 35 سال کے طویل عرصہ جاری رہا۔صوفی صاحبؒ اُن دنوں چوبرجی چوک لاہور میں ٹریسر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔ صوفی صدیق صاحب ؒ سلسلہ عالیہ رفاعیہ کے عالیشان بزرگ حضرت محمدعرب الرفاعی ؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔آپ بہت خوش اخلاق ملنسار اور مہمان نواز شخصیت تھے ۔ سیّدی فرماتے ہیں کے صوفی صاحب کے پاس بیٹھ کر محسوس ہوتا تھا کہ اللہ والے کے پاس بیٹھے ہیں ۔

گدائے کوچہء عرش مدینہ عالی مرتبت بلند بخت حضرت جناب عبدالحمید قادری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ المعروف بابا جی بلیوں والی سرکار

شہر مدینہ طیبہ منورہ کی گلیوں میں پھرتے ہوئے یہ عاشق رسولؐ مخلوق خدا پر تو مہربان تھے ہی مگر آپ کو عرش مدینہ کی گلیوں میں طواف کرتی ہوئی خوش نصیب بلیوں کی بھی خدمت کا اعزاز حاصل تھا۔آپ رات گئے کوچہء جاناں میں گشت کرتے اور ان بلیوں کو دودھ ، بسکٹ اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء پیش کرتے ۔ یہ سرورِ دو عالم نورِ مجسم ﷺسے آپ کی محبت کا ایک انداز تھاجس پر آپ اپنے وصال تک قائم رہے۔ سرکار سے آپ کو بے انتہا محبت تھی۔عمرہ کی سعادت کے دوران سیّدی سرکار بابا جی بلیوں والی سرکار سے کثرت سے ملاقات فرماتے ۔ اس دوران رازو نیاز کے کلمات کا تبادلہ کبھی خاموشی اور کبھی گفتگو کے دوران ہوتا۔خط و کتابت کا سلسلہ بھی قائم رہا ۔ یہ گدائے رسولؐ 2000ء میں واصل بحق ہو کر عمرِ جاوداں پا گئے۔

کاتب سیرتِ رسول ﷺ حضرت عبدالرؤف لوتھرالمعروف سبزواری سرکار رحمۃاللہ تعالی علیہ

سیرت ا لنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھنے پر صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے وا لے اس عاشق رسول ؐ سے سیدی سرکار کا عقیدت و محبت کا تعلق قائم رہا۔سبزواری سرکار کی شہادت سے پہلے اکثر قبلہ سرکار آپ کی محافل میں تشریف لیجایا کرتے۔سبزواری سرکار اپنے مریدین کو نوراللہ محبوب اللہ کا ورد کرواتے۔ سبزواری سرکار پان نوش فرمایا کرتے تھے ۔ایک بار آپ سیدی سرکار سبزواری سرکار کی بارگاہ میں تشریف لے گئے انھوں نے اپنی مسند شریف پر آپ کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور لنگر کے بعد پان نوش فرمانے کے لئے عطا کیا۔ قبلہ سرکار نے کبھی پان سگریٹ جیسی چیزوں کو چھوا تک نہ تھا۔ حکم پر نوش کیا تو پان کا لال رنگ آپ کے سفید کپڑوں پر لگ گیا ۔ جس پر سبزواری سرکار نے ارشاد فرمایا ۔ حاجی صاحب ! اب آپ رنگے گئے ہیں۔

کشف و کرامات
فقیر کرامات کے ظہور کو پسند نہیں فرماتا مگر اس کو کائنات کی تمام مخلوقات پر تصرف حاصل ہوتا ہے ۔ساری مخلوقات واصل باللہ کی خدمت کے لیے مستعد کھڑی ہوتی ہے ۔ لیکن فقیر کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی وہ صرف اپنے مقصود و مطلوب خدائے لم یزل کی طرف اپنا دھیان لگائے رکھتا ہے۔ بارگاہ مصطفی ﷺ سے ملنے والے حکم کا منتظر رہتا ہے اور مولائے کائنات کی غلامی کو اپنا فخر سمجھتا ہے ۔اس کا چلنا کرامت اس کا رکنا کرامت اسکا بولنا کرامت اس کی خاموشی کرامت ، اسکا بیٹھنا کرامت اسکا اُٹھنا کرامت ،اس کا کھانا کرامت اس کا پینا کرامت ، اس کا سونا کرامت اس کا جاگنا کرامت ، اس کی ہر ہر ادا کرامت ہوتی ہے اور وہ سراپائے کرامت ہوتا ہے ۔حضرت سلطان باہو سرکار فرماتے ہیں کہ کامل فقیر ظاہر میں تو عام تو عام لوگوں میں بیٹھ کر باتیں کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن باطن میں اسے حضوری حاصل ہوتی ہے۔ جب فقیر بات کرنے کے لیے لبوں کو جنبش دیتا ہے تو ظاہر کے دیکھنے والے لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے باتیں کرتا ہے۔روحانی انبیاء اور اولیاء اللہ جانتے ہیں کہ ہم سے باتیں کرتا ہے ، مو ء کل ملائکہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے کلام کرتا ہے اللہ عز و جل کو علم ہے کہ مجھ سے کلام کرتا ہے اور حضور پُر نور سیّد یوم النشور احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ تصور فرماتے ہیں کہ ہم سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ ایسے فقیر کا جسم سورج کی مانند چمکتا ہے وہ ہر وقت ہر مقام پر صاحبِ حضور ہوتا ہے۔ (اسرارِ قادری) یوں تو ہر لمحہ ہی آپ سے کرامات کا ظہور ہوا چاہتا ہے اور بڑے بڑے وقت حاضر کے اولیاء کرام آپ کے کشف و کرامات کے آگے سر تسلیم خم فرماتے ہیں مگر احقر یہاں چند خرق عادات واقعات کا زکر کرنے کی جسارت کر رہا ہے جومریدین کے ایمان کو تازگی و مضبوطی بخشنے میں کارگر ثابت ہوئے۔

ایمان1

آپ سیّدی سرکار صاحب کشف و اسرارصاحب لسان کن کے اسمِ مبارک کی تاثیر کا عالم یہ ہے کہ ایک بار سانگلہ ہل پنجاب کے نواحی گاؤں میں کسی بچی پر آسیب تھا اور غیبی طور پر کوئی چیز اس پر اس طرح حملہ آور ہوتی تھی کہ جس طرح حجام بال کاٹتا ہے ویسے ہی اس کے بال پر اسرار طور پر کٹتے ہوئے دکھائی دیتے تھے مگر کاٹنے والا غائب تھا ۔ یہ ایک انتہائی خوف ناک منظر تھا جس سے سب اہل علاقہ دہشت زدہ تھے ۔سیّدی سرکار کے ایک مرید اتفاق سے اس وقت موجود تھے انھوں نے اس آسیب زدہ کو مخاطب کر کہ کہا کہ سرکار حاجی غلام حیدر قادری فرما رہے ہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ ہم خود یہاں آجائیں گے ۔ اتنا کہنا ہی تھا کہ وہ بچی بھلی چنگی ہو گئی اور پھر اس کو دوبارہ ایسی کیفیت نہ ہوئی جس پر سانگلہ ہل سے ان مکینوں کی ساری بس بھر کر سیّدی سرکار کے قدموں میں آ گری ۔آپ نے تمام حضرات کو شفقت و محبت سے نوازا۔

ایمان 2

سیّدی سرکار کے ایک محبت کرنے والے مرید کبھی سائیکل کو پنکچر لگاتے تھے ۔ آپ کے حکم کے مطابق اپنی پنکچر والی دوکان ختم کر کے محض تیس ہزار کی معمولی رقم سے سیکنڈ ہینڈ ٹائروں کا کام شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں ٹائر انڈسٹری کے نامور تاجروں میں آپکا شمار ہونے لگا ۔ سیٹھ صاحب کی شادی کے بعد اولاد نہ ہوئی تو چیک اپ کروانے پر لاہور کے اعلیٰ ترین ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ دونوں میاں بیوی علیحدگی اختیار کر لیں کیونکہ آپ کی اولاد نہیں ہو سکتی ۔ وہ رپورٹس کے ساتھ سیّدی سرکار کے پاس تشریف لائے تو آپ سیّدی نے ان سے فرمایا کہ آپ کو کسی بھی طرح علیحدگی کی ضرورت نہیں آپ کو اولاد ضرور ہو گی اللہ پر بھروسہ رکھیں اور کچھ ہی عرصہ بعد سیٹھ صاحب کو اللہ پاک نے امید کی کرن عطا کی تو وہ دوبارہ رپورٹس لیکر ڈاکٹر حضرات کے پاس پہنچے اور ڈاکٹر حضرات اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ میڈیکل میں ایسا ہونا نا ممکن تھا۔ اس کے بعد سیٹھ صاحب کو اللہ پاک نے پے در پے سات اولادوں سے نوازا۔سیّدی سرکار نے فرمایا کہ جب تک آپ بس نہیں کریں گے اللہ کی رحمت جاری رہے گی۔

ایمان 3

کچھ حضرات سیّدی سرکار کی بارگاہ میں حاضر ہوئے کہ اُن کے جواں سال بیٹے کو ڈاکٹر حضرات نے جواب دے دیا ہے اسے وینٹیلیٹرپر رکھا ہوا ہے اور زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے ۔ آپ سیّدی نے دم فرما کر پانی کی بوتل عطا کی اور فرمایا کے اس مریض کے ہونٹوں کو یہ دم والا پانی لگا دینا انشا ء اللہ شفا ہو جائے گی ۔ اُن لوگوں نے ایسا ہی کیا تو ڈاکٹر بھی حیرت اور سکتے میں آ گئے اور وہی شخص مکمل صحت یاب ہونے کے بعد خود چل کر سیّدی کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ کے ارادت مندوں میں شامل ہو گیا۔

ایمان 4

قبلہ سرکار کے ایک محب جن کا پورا خاندان سیّدی سرکار سے حد درجہ عقیدت رکھتاہے اور ان کے دونوں صاحبزادے لنگر شریف پیش کرنے خدمت سر انجام دیتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ان کے نواسے کا دل کا آپریشن ہونا تھا اور دل میں سوراخ ہونے کی وجہ سے کافی خطرناک تھا ۔ وہ لوگ آپریشن کروانے سے ہچکچا رہے تھے مگر سیّدی سردار نے فرمایا کہ آپ بے فکر ہو کر آپریشن کروائیں آپ کا بچہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا ۔ اور ماشاء اللہ اب وہ بچہ ٹھیک ہے اور ایک نارمل زندگی جی رہا ہے۔

ایمان 5

ایک صاحب کسی ایمبیسی کے کیس میں بری طرح پھنس گئے ۔ اور ایف آئی اے والوں نے گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا ۔ جس پر اُن کے اہل خانہ نے سیّدی سرکار کی بارگاہ میں التجا کی کہ اُن کے بچے کو بچا لیں اس کے ساتھ خود دھوکہ کیا گیا ہے ۔ جس پر سیّدی نے فرمایا کہ جاؤ اس کی ہفتہ کے دن ضمانت ہو جائے گی ۔ اور ٹھیک ہفتہ کے روز ہی اُن صاحب کی ضمانت ہوئی اور وہ سیّدی سرکار کے نیاز مندوں میں شامل ہوئے۔

ایمان 6

احقر طویل عرصہ سے ہیپاٹایٹس کے مرض میں مبتلا تھا اور سیدی سرکار کی عطا کردہ اکسیر جگر کیپسول کھانے کے کچھ عرصہ بعد ٹیسٹ کروایا تو نیگیٹو آیا۔احقر تنہا ہی نہیں ہزار ہا افراد اس موذی بیماری میں مبتلا ہیں اور بہت دور دور سے مریض حضرات یا ان کے رشتہ دار اس مرض کے علاج کے لیے قبلہ و کعبہ سیّدی سرکار کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں ۔ دوا تو ایک بہانہ ہے اصل بات تو آپ سیّدی سرکار کی دعائے خیر کی ہے ۔ احقر کمتر کو شوگر اور بلڈ پریشر جیسے موذی امراض بھی لا حق تھے۔ جو صاحب کن کے فرمان سے دور ہوگئے۔ اگر یوں کہیے گہ بندہ کمتر کو جو زندگی کی سانس ملیں ہیں وہ سیدی و حبیبی و مولائی کے قدموں کے طفیل ہے تو سو فیصد ہی بجاہے۔

ایمان 7

قبلہ سرکار کے مرید کے بھائی کو کسی معاملہ میں ایک شخص نے گولی مار دی ۔زخمی حالت میں جب انھیں ہسپتال لایا گیا تو صورتحال کافی خطرناک تھی ان کی بیگم صاحبہ نے سیّدی سرکار سے فون پر دُعا کی درخواست کی تو سیّدی نے فرمایا بے فکر رہیں لڑکے کو کچھ نہیں ہو گا اور حیرت انگیز معجزاتی طور پر ان کے جسم کے سارے اعضاء بالکل محفوظ رہے۔اور وہی شخص جس کے بچنے کی امید بھی مشکل نظر آ رہی تھی کیونکہ گولی اگر پیٹ کے اندر موجود معدہ ، جگر ، گردے یا کسی بھی اور عضو میں سے گزر جاتی تو حالت نازک ہو جاتی سیدی سرکار کی برکت سے تین دن میں ہی ہسپتال سے گھر واپس آ گئے اور مکمل طور پر صحت یاب زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ایمان 8

ر اقم تحریر بردہ حیدر کرایہ کے مکان میں رہائش پزیر تھا تنگدستی کی وجہ سے مکان خالی کرنا پڑا سیدی لجپال نے اپنے ایک عزیز کا گھررہائش کے لیے نہ صرف عطا فرمایا بلکہ اسے آرائش و زینت سے سجوا کر انتہائی عالیشان بنوا دیا اور ساتھ ہی آپ سیدی سردار نے فرمایا کہ اگلے سال تک آپ کو اپنا گھر مل جائے گا۔ آپ سیدی کے فرمان اقدس کے بعد چھ ماہ کے دوران ہی قرض میں ڈوبے ہوئے ناداروں کو نہایت خوبصورت ذاتی ملکیت کا گھر ملا بلکہ آپ سیدی کے کرم سے بہترین گاڑی اور کاروبار کے لیے خطیر رقم کسی غیبی خزانے کی طرح حاصل ہوئے کہ جس کا گمان بھی بعید از قیاس تھا۔

ایمان 9

ایک صاحب کی زندگی میں حال ہی میں ہونے والی ایک انقلابی تبدیلی کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ انھوں نے سیدی سرکار سے اپنے گھر تشریف لانے کی درخواست فرمائی ۔ جو صاحب کمال نے مہربانی فرما کر ان کے بار بار اسرار کے بعد قبول فرما لی ۔ ماڈل ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گا ہ پر جب سیدی نے اپنے قدم مبارک رنجہ فرمائے تو انھوں نے اپنی مالی مشکلات اور پریشانی کا زکر کیا کہ ان کی ساری زندگی کی کمائی مختلف کاموں میں ضائع ہو چکی تھی ، گفتگو کے دوران وہ صاحب سیدی سرکار کو اپنے گھر کی چھت پر لے گئے ۔وہاں بڑی بڑی تین پراتیں پڑیں تھیں جن میں پرندوں کے لیے دانہ دنکا وغیرہ رکھا تھا۔آپ سیدی صاحب اسرار کو ان صاحب کی یہ ادا بے حد پسند آئی اور فرمایا کہ آپ کا بہت ہی جلد بہترین کام ہو نے والا ہے ۔ان تین پراتوں کے عوض اللہ آپ کو نہایت شاندار اجر عطا فرمائے گا ۔وہ صاحب قرض میں بری طرح ڈوبے ہوئے تھے انھیں دور دور تک بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ لیکن صاحب لسان کن کا فرمان تھا کہ چند ہی دنوں بعد ان صاحب کی بیگم صاحبہ کو ان کے والد صاحب نے ترکہ کی جائیداد میں ایک مربع زمین کا مالک بنا دیا ۔ ایک مربع زمین جوان حضرت کی ساس صاحبہ کی تھی وہ بھی ان کی بیگم کو دے دی اور ایک مربع زمین ان کی سالی صاحبہ کو ملی جو ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے اسکی حوالگی بھی ان کے حصے میں آئی ۔ یوں جناب ان تین پراتوں کے عوض تین مربع زمین کے مالک بن چکے ہیں اور بہترین زمیندار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

ایمان 10

ایک صاحب سیدی سرکار سے بے حد عقیدت رکھنے والی شخصیت ہیں۔ آپ نے ایک بار سیدی سے عرض کی کہ حضور میری بیٹی کو پڑھنے کا بہت شوق ہے تو آپ سیدی نے فرمایا کہ چوہدری صاحب آپ دیکھیں گے کہ ایک دین آپ کی بیٹی ڈاکٹر بنے گی اور ایسا ہی ہوا بعد ازاں اس دختر نیک اختر نے سعودی عرب میں سپیشلایزیشن کا امتحان دیا تو ان کا ایک پرچہ ٹھیک نہ ہوا جس پر سیدی سرکار سے دعا کی درخواست کی آپ سیدی نے فرمایا کہ بے فکر رہیں آپ پاس ہیں۔اللہ پاک نے سیدی سرکار کے صدقے اْن کو کامیابی عطا کر دی ۔

ایمان 11

بہت عرصہ قبل سیدی سرکار کی دعا سے ان کے ایک معتقد کی پوسٹنگ دوبئی میں ہونے کے ساتھ ساتھ تنخواہ دس گنا زیادہ مکرر ہوئی۔ لیکن جہاں معیاد مدت پانچ برس تھی وہاں چھ ماہ کے بعد ہی ان صاحب کی جگہ کسی اور کو سفارش کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔ وہ اس نا حق اقدام پر بہت پریشان ہو کر سیدی سرکار کی بارگاہ عالیہ میں فون پر عرض گزار ہوئے۔ آپ سیدی نے فرمایا کہ آپ اپنی نوکری پر برقرار رہیں گے وہ حضرت یہ سن کر تذبذب کا شکار ہو ئے اور عرض کی کہ حضور یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ جس شخص کو میری جگہ نوکری دی جا رہی ہے وہ بھی دوبئی آ پہنچا ہے اور کل صبح جوائننگ دے رہا ہے۔ سیدی نے فرمایا کہ اگر اس شخص کو ہی بدل دیا جائے جس کے دستخط سے آپ کو نوکری سے دستبرار کر کے کسی دوسرے کو نا حق لگایا جا رہا ہے۔ حضرت نے عرض کی کہ حضور اگر ایسا ہو جائے تو میری نوکری بچ سکتی ہے۔ سیدی سردار صاحب لسان کن نے فرمایا کہ بے فکر ہو جائیں آپ اپنی نوکری پر بحال رہیں گے۔ اگلی صبح وہ حیران کھڑے رہ گئے کہ جو شخص انھیں نوکری سے نکال کر پاکستان واپس بھیج رہا تھا وہ راتوں رات خود تبادلہ کا لیٹر تھامے گھر جا رہا تھا۔

ایمان 12

یک صاحب کی زندگی میں حال ہی میں ہونے والی ایک انقلابی تبدیلی کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ انھوں نے سیدی سرکار سے اپنے گھر تشریف لانے کی درخواست فرمائی ۔ جو صاحب کمال نے مہربانی فرما کر ان کے بار بار اسرار کے بعد قبول فرما لی ۔ ماڈل ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گا ہ پر جب سیدی نے اپنے قدم مبارک رنجہ فرمائے تو انھوں نے اپنی مالی مشکلات اور پریشانی کا زکر کیا کہ ان کی ساری زندگی کی کمائی مختلف کاموں میں ضائع ہو چکی تھی ، گفتگو کے دوران وہ صاحب سیدی سرکار کو اپنے گھر کی چھت پر لے گئے ۔وہاں بڑی بڑی تین پراتیں پڑیں تھیں جن میں پرندوں کے لیے دانہ دنکا وغیرہ رکھا تھا۔ آپ سیدی صاحب اسرار کو ان صاحب کی یہ ادا بے حد پسند آئی اور فرمایا کہ آپ کا بہت ہی جلد بہترین کام ہو نے والا ہے ۔

ان تین پراتوں کے عوض اللہ آپ کونہایت شاندار اجر عطا فرمائے گا ۔وہ صاحب قرض میں بری طرح ڈوبے ہوئے تھے انھیں دور دور تک بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ لیکن صاحب لسان کن کا فرمان تھا کہ چند ہی دنوں بعد ان صاحب کی بیگم صاحبہ کو ان کے والد صاحب نے ترکہ کی جائیداد میں ایک مربع زمین کا مالک بنا دیا ۔ ایک مربع زمین جوان حضرت کی ساس صاحبہ کی تھی وہ بھی ان کی بیگم کو دے دی اور ایک مربع زمین ان کی سالی صاحبہ کو ملی جو ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے اسکی حوالگی بھی ان کے حصے میں آئی ۔ یوں جناب ان تین پراتوں کے عوض تین مربع زمین کے مالک بن چکے ہیں اور بہترین زمیندار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

ایمان 13

پرانے زمانے کی خستہ حال موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص سیدی سرکار کی خدمت اقدس میں حاضری کا شرف حاصل کرنے لگا۔ سیدی سرکار کی نگاہ پاک کو وہ نوجوان بھا گیا۔ اور جلد ہی اس کا شمار مقربین میں ہونے لگا ۔ پیشے سے وہ اعظم کلاتھ مارکیٹ کا تاجر تھا مگر بازار کے جس کونے میں اس کی دوکان تھی وہاں گاہکوں کا رش نہ ہونے کے برابر تھا ۔ اسلیئے معاشی حالت کافی پتلی تھی ۔ کنبہ وسیع تھا مگر آمدن کا ذریعہ محدود تھا ۔اس کے باوجود اس نوجوان کی سیدی سرکار سے عقیدت و محبت کا عالم دیدنی ہوتا ۔ ہر جمعرات کو وہ سیدی سرکار کے ہمراہ حضور داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ کے دربار عالیہ میں با قاعدگی سے حاضر ہوتا۔ اور پھر ایک روز دریائے کرم جوش میں آیا اور سیدی نے اس نوجوان کی دوکان کو اپنے مبارک قدموں سے مزین فرمایا ۔اور ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ جو آپ ریٹیل سوٹ بیچنے کا کام کرتے ہیں اسے چھوڑ دیں اور ہول سیل کا کام شروع کر دیں ۔ کچھ دن کے بعد وہ نوجوان سیدی کی بارگاہ میں حاضر ہوا کہ سرکار میرے والد صاحب اس بات پر راضی نہیں ہو رہے اور دوکان سانجھی ہے اس لیئے میں معافی کا خواستگار ہوں کہ آپ کا حکم بجا نہیں لا سکا۔ سیّدی شفیق و رفیق نے فرمایا کہ جیسے آپ کے والد محترم فرماتے ہیں ویسے ہی کریں مگر اپنی درخواست کو بھی ان کی خدمت میں پیش کرتے رہیں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کو ہول سیل کے کاروبار میں بے انتہا فائدہ ہو گا۔

اس نوجوان کا ادب اور سعادت مندی رنگ لائی اور آخر کار اس کے والد صاحب ریٹیل کا کاروبار چھوڑ کر ہول سیل بیچنے پر رضا مند ہو گئے ۔ سارا مال بیچنے کے بعد ڈھائی لاکھ روپے کی قلیل رقم سے اس نوجوان نے سیدی سرکار صاحب اسرار کے حکم پر نئے کاروبار کا آغاز کیا ۔ جہاں یقین ہوتا ہے وہاں آزمائش بھی ہوتی ہے ۔ اتنی قلیل رقم اعظم مارکیٹ جیسے بڑے بازار میں ہول سیل کے حساب سے رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ۔ مگر اس نوجوان کے استقلال میں کمی نہ آئی ،اور خدا کے دوست کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کے پورا ہونے کا وقت آن پہنچا۔ فیصل آباد شہر میں کپڑے کی چھوٹی سی مل کا مالک اپنا بنایا ہوا آرگنزا کاکپڑا بیچنے لاہور آیا ۔ لیکن اتفاق سے اس کے کپڑے کو کسی نے بھی نہ خریدا ۔ وہ شخص نہایت مایوسی کے عالم میں اس نوجوان کے پاس آن پہنچا اور اپنا مال دکھایا ۔ نوجوان نے کہا کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں کہ میں آپ کا کپڑا خرید سکوں اس شخص نے کہا کوئی بات نہیں آپ یہ سارا رکھ لیں اور جب بک جائے تو مجھے پیسے دے دیں ۔ نوجوان اتنی بڑی پیشکش پر بہت حیران ہوا اور پریشان بھی کہ کپڑا بہت زیادہ مالیت کا ہونے کے ساتھ ساتھ نیا تھا جس کا گاہک پوری مارکیٹ میں کوئی نہ تھا ۔ خیر اس نے اپنے مرشد و رہبر کو یاد کر کے ان کے قول پر کامل یقین رکھتے ہوئے کپڑا رکھ لیا اور سیدی کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سارا واقع گوش گزار کیا۔سیدی نے دعاؤں سے مالا مال فرما کر رخصت کیا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارے کا سارا مال دنوں میں بک گیا ۔

نوجوان نے مل مالک کو ساری رقم لوٹا کر نیا آرڈر لکھوا دیا کہ سارے پاکستان سے اس کپڑے کی ڈیمانڈ آنے لگی تھی۔ نوجوان کے دن بدلنے لگے اور رات و رات و ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا ۔ بہت سے تاجروں نے مل مالک کا پتہ معلوم کر کے اس کو نقد رقم پر اچھے نرخوں میں کپڑا خریدنے کی پیشکش کی مگر جن کے پیچھے سائیوں کی دعائیں ہوں تقدیر بھی ان کے قدم چومتی ہے ۔ مل کے ملک نے صاف کہہ کر انکا ر کر دیا کہ جس وقت میں آپ لوگوں کو اپنا مال بیچنا چاہتا تھا اس وقت آپ میں سے کسی نے میرا ساتھ نہ دیا اب میں جتنا بھی مال بناؤں گا اسے صرف سیٹھ صاحب کو ہی بیچوں گا ۔اگر آپ میں سے کسی کو خریدنا ہے تو سیٹھ صاحب کے پاس جائیں ۔ آج وہ نوجوان اعظم مارکیٹ لاہور کے نامور تاجروں میں شمار ہوتا ہے۔ خدا نے ان کو بیشمار دولت و ثروت سے نوازا ہے ۔ مگر اس کے باوجود ہر جمعرات وہ اپنے داتا اپنے مرشد اپنے رہبر کے دربار عالیہ میں باقاعدگی سے حاضری دیتے ہیں۔اقبال ؒ فرماتے ہیں۔ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

ایمان 14

سیّدی کی محفل میں دیوانوں کا ایسا گروہ جن کی خوش طبعی سے ماحول کو ایک شگفتگی ملتی رہتی ہے۔ یہ سب دیوانے ملکر اپنے محبوب کے دل کو لبھانے کے لیے ہر وہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے حُسن کے بادشاہ کے رُخ گلاب کا جوبن تبسم کے جواہربکھیردے اور خاک نشین بھکاریوں کے قلب و روح اس نعمت عظیم سے اپنا دامن بھر کر واپس لوٹیں۔ سیّدی سرکار غمگسار کے مقربین مریدین میں ایک خوش مزاج نوجوان شامل تھا جو ایک سریا بنانے والی فیکٹری میں معمولی سیلزمین کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتا تھا۔ پانچ ہزار تنخواہ میں شکر خدا کر کے گزر بسر ہو رہی تھی۔ عقیدت و محبت کے جذبات کی گرمی بھی نوجوان کے دل کے اندرروز بروز بڑھتی جا رہی تھی اور آخر کا ر ایک دن صاحب کن کی نگاہ کرم نے اس کی زندگی بدلنے کا فیصلہ فرما دیا۔ ارشاد ہوا ملک صاحب ایک دن آپ بھی صاحب ثروت لوگوں میں شمار ہونگے ۔اس نوجوان کو بہت حیرت ہوئی کہ میں ایک معمولی تنخواہ دار شخص ہوں ایسا کیونکر ممکن ہوگا ۔ ملازمت میں کچھ ترقی تو ہوچکی تھی مگر پانچ ہزار سے بیس ہزار تنخواہ کا سفر صاحب ثروت ہونے کی دلیل کے لیے نا کافی تھا ۔

اچانک ایک روز سریا مل کے مالک نے کہا کہ ملک صاحب آپ کو آئندہ تنخواہ نہیں ملے گی آپ جتنا مال بیچا کریں کہ اس پر آپ کو صرف کمیشن ہی ملے گی۔ ایسی خبر سن کے دل کے سارے ارمان چکنا چور ہوتے نظر آئے ۔جو تنخواہ آتی تھی اب وہ بھی ہاتھ سے جائے گی ۔ مستقبل پر تشویش کے بادل منڈلانے لگے ۔ انھی خیالات کی گردش میں پریشان حال وہ نوجوان سیدی کے پاس آیا اور عرض حال بیان کیا ۔ آپ نے نہایت شفقت و محبت فرمائی اور کمال مہربانی سے حوصلہ مندی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ملک صاحب آپ بے فکر ہو کر بغیر تنخواہ کے کمیشن پر کام کریں اب آپ کے دن بدلنے کا وقت آگیا ہے ۔ اور پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ہر آ نے والے دن میں اس نوجوان نے ترقی کی وہ منازل طے کیں جہاں پہنچنے کے لیے لوگ ساری ساری عمر گنوا دیتے ہیں ۔ وہ جہاں بھی آرڈر لینے کے لیے گیا سیدی کی دعاؤں کے صدقے کامیاب لوٹا اور تا دم تحریر اس کے مقدر کا ستارہ عروج پر ہے ۔ اس کا شمار بھی صاحب ثروت حضرات میں ہوتا ہے اور سیدی سے ان کی محبت وعقیدت بھی روز بروز ترقی پا رہی ہے۔

ایک قابل زکر گوہر جو سیدی سرکار کے دیوانوں میں شامل ہیں اور سیدی و حبیبی کے چہرہ انور پر مسکراہٹ کے پھول بکھیرنے کے لیے ہر ادا اور انداز اپنالیتے ہیں۔سیدی سرکار کو مخاطب کرنے کے لیے آپ کا ایک خاص انداز ( سوہنیو ) ان خاموش عاشقوں کے دل کی ترجمانی کرتا ہے جو شرمیلی دلہن کی طرح حجاب کے پردوں میں چھپ کر اپنے محبوب کو تکتے رہتے ہیں۔ آپ کو بھی سیدی سر کار کی محبت کاصدقہ اللہ نے اسقدر عطا کیا کہ کایا ہی پلٹ گئی۔ صرف چند ہزار روپے کی قلیل رقم سے سیّدی سرکار کے فرمان پر آپ نے ریڈی میڈ گارمنٹس کا کام شروع کیا اور دنوں میں ہی آپ سیدی و حبیبی محبوب الہی کی محبت کے صدقے تونگر ہو گئے۔ قاسم خزینہ محمدیؐ کے وسیلے سے ہی ان کے چھوٹے بھائی کو پاکستان جونئیر کرکٹ ٹیم کے فزیو تھراپسٹ کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے اور وہ بخوبی اپنے فرائض ادا کر کے ملک پاکستان کی خدمت اور ساری دنیا میں نام روشن کر رہے ہیں۔

ایمان 15

ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والی بی بی کے کچھ سال قبل ان کے گھرانے پر ناگہانی آفات نے ڈیرے جما لیے تھے اور کسی کیس میں ان کے ریٹائرڈ آرمی ٓفیسر والد صاحب اور چچا جیل بھجوا دیا گیا۔ وہ مصیبت کی ماری پریشان حال در بدر اپنے والد بزرگوار کی رہائی کے لیے کوشاں تھیں مگر قسمت کی ستم ظریفی بدستور اپنا کام کیے جا رہی تھی ۔ کہ ایک دن باغبانپورہ شریف کے بازار اقدس سے گزرتے ہوئے آپ کے قدم خود بخود در دولتِ مہربان تک پہنچ گئے اور سیدی سرکار کے چہرہ انور کے دیدار کی ایک جھلک نے ہی آپ کے دل پر کامل یقین کے ساتھ دستک دی کہ ضرور یہی وہ در ہے جہاں منگتوں کی حاجت روائی کی جاتی ہے مشکل کشا کیغلام بھی مشکل کشا ہی ہیں۔ عدالت کی تاریخ سے قبل سیدی غلامِ مشکل کشا نے مہربانی فرما ئی اور لسانِ کن سے ارشاد فرمایا کہ بیٹی آپ فکر نہ کریں آپ کے والد صاحب کل گھر آجائیں گے ۔

اگلے دن جب عدالت لگی اور جج صاحب تشریف لائے تو کیس کی ساری کایا ہی پلٹی ہوئی تھی ۔جج صاحب نے انتہائی برہمی سے پولیس والوں ڈانٹا کے آپ نے ایک بے گناہ شخص کو ناحق قید میں ڈالا ہوا ہے اور فورا رہائی کے آرڈر جاری کئے مگر اسی دوران عدالت کا وقت ختم ہو چکا تھا اور رہائی کے کوائف پورے کنے کے لئے رہائی کا معاملہ اگلے دن تک جا رہا تھا مگر صاحب کن کی لسانِ مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ کی لاج ہمیشہ محبوب حقیقی نے رکھی اور جج صاحب نے تمام عملہ کو حکم صادر فرمایا کہ جب تک اس شخص کی رہائی کے کاغذات مکمل طور پر تیار نہیں ہو جاتے اور میں خود ان پر دستخط نہیں کر دیتا تب تک عدالت میں ہی بیٹھا ہوں ۔ جج صاحب کے اس عجیب و غریب رویہ پرقیدی کے گھر والے تو حیران تھے ہی مگر سارا عملہ بھی پریشان تھا کہ آج سے پہلے تو جج صاحب نے ایسا سلوک کسی قیدی کے ساتھ نہیں کیا جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ ان بے خبر لوگوں کو کیا معلوم کہ پیچھے اللہ کے دوست کی طاقت ہے جو یہ سب کچھ ان سے کروا رہی ہے ۔خیر خدا کر کے بی بی کے والد صاحب کی ضمانت ہوئی اور وہ باعزت طور پر گھر تشریف لائے ۔

ایمان 16

پیشے سے ایک قابل ڈاکٹر لیکن آزمائشوں نے اس قدر حالات بدل ڈالے تھے کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ بجلی اور دیگر بل ادا کرنے کی بھی سکت باقی نہ رہی اور واپڈا والے میٹر کاٹنے پہنچ گئے ۔مگر جس کا حامی خدا ہو جائے پھر اس کو دنیا کی کوئی شے گزند نہیں پہنچا سکتی ۔ اور خدا اپنے بندوں کی بندوں کے ذریعے ہی مدد کرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جس کی مدد کرتا ہے وہ طالب ہوتا ہے اور جس سے مدد کرواتا ہے وہ مطلوب و محبوبیت کے مراتب پا لیتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب بھی اپنے حالات بدلنے کی طلب میں مطلوب خدا محبوبِ مصطفی ؐ غلامِ حیدرِ کرار علی ؑ المرتضیٰ کے در تک آ پہنچے اور سیّدی و حبیبی و مولائی نے نظر کرم و عنایت فرما کر ڈاکٹر صاحب کے گھر جانے کا ارادہ فرمایا۔

واصل باللہ فقیر جب کسی جگہ جانے کا ارادا فرما لیتے ہیں تو راستے سے لیکر منزل تک تمام کی تمام مخلوقات دست بدست دیدہ و دل فرش راہ کیے اس کے استقبال کے لئے مستعد کھڑی ہوتی ہے بس ظاہری آنکھ والے اس کی پہچان نہیں کر پاتے اور جب وہ منزل مقصود پر پہنچ کر اپنے مبارک قدموں سے اس جگہ کو مزیّن کرتے ہیں تو تمام نحوستیں ،نجاستیں اور بلائیں فقیر کے ادب اور احترام میں وہاں سے اپنا بوریا بسترا باندھ کر چلی جاتی ہیں اور اگر کوئی ان میں سے سرکشی کی کوشش کرے تو پھر قہر خداوندی کا شکار ہونا اس کا مقدر بن جاتا ہے ۔

سیّدی و مولائی کے مبارک قدموں کے طفیل چند ہی دنوں میں ڈاکٹرصاحب کے حالات بدلنا شروع ہو گئے اور ان کی عقیدت و محبت میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ آج لاہو کے ایک پوش علاقے ڈیفینس میں اور ڈاکٹر صاحب کی اپنیرہائش گاہ پر مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور جدید طریقہ علاج کے ذریعے لوگوں کو موٹاپے اور دیگر بیماریوں سے نجات دلوائی جاتی ہے۔خود احقر کے اہل خانہ میں مریض کو سیدی سرکار کے صدقے ڈاکٹر صاحب کے علاج سے شفا نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کو ساری فیملی سیّدی سے شرف ملاقات اور رہنمائی کے لیے کثرت سے تشریف لاتے ہیں۔اور نہائت منکسرانہ حاضری پیش کر کے دارین کی دولت سمیٹ لے جاتے ہیں ۔

17 ایمان

حال ہی میں ہونے والے واقعہ میں ایک صاحب کی اہلیہ محترمہ کو ہاتھ میں ایک ایسی گلٹی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے سارے بازو میں شدید درد اُٹھ گئی اور انھیں ڈاکٹر حضرات نے آخری حل آپریشن تجویز کیا جس کے بعد آپ لوگ سیّدی سرکار بے کسوں کے والی و مدد گار کی بارگاہ مقدسہ مطہرہ میں حاضر ہوئے اور عرض حال بیان کیا۔ سیّدی سرکار نے ہمیشہ کی طرح کمال لطف و مہربانی فرماتے ہوئے اپنا دست مبارک و شفقت جب گلٹی پر پھیرا تو وہ بالکل غائب ہو گئی اور بغیر آپریشن کے تکلیف رفع ہو گئی ۔ اسی طرح ایک صاحب کی اہلیہ مبارکہ کو بھی سینے میں گلٹی کی شکایت ہوئی ۔ پندرہ روز تک وہ گنگا رام ہسپتال لاہور میں علاج کے لئے تشریف لے جاتے رہے کہ بالاخر آپریشن تجویز کیا گیا ۔جس روز آپریشن تھا اس سے ایک رات قبل جب سیّدی سرکار غمخوار کی بارگاہ عالیہ میں فریاد کی گئی تو آپ نے لطف و کرم کے دریا بہاتے ہوئے بغیر آپریشن کے تکلیف کے رفع ہونے کا مژدہ سنا دیا اور فرمایا کہ آپ کی بیگم صاحبہ کو کچھ نہیں ہے آپ بے فکر ہو کر جائیں۔ جس کے بعد آپریشن تھیٹر میں جب مریضہ کو لے جا کر چیک کیا گیا تو وہاں کسی قسم کی گلٹی کا نام و نشان نہیں تھا ۔آپریشن تھیٹر کی ڈاکٹر صاحبہ حیران تھیں کی جس مرض کی خاطر مریضہ کو لایا گیا ہے وہ اس طرح سے ناپید ہے جیسے کبھی ہوا ہی نہیں۔

18 ایمان

قبلہ سیدی سرکار کے ایک مرید کو ڈینگی بخار کی شکایت پیش آئی ۔ ٹیسٹ کروانے سے قبل وہ سیّدی سرکار راحت بیقرار کی بارگاہ مطہرہ میں تشریف لائے ۔ آپ نے لنگر کا مشروب پیش کرنے کے بعد انھیں ٹیسٹ کے لئے جانے کی اجازت دی تو حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ ساری علامات ڈینگی بخار کی تھیں اور روپورٹس میں ڈینگی نہیں تھا ۔ پھر سیّدی سرکار کے فضل و کرم سے انھیں علامات سے بھی نجات مل گئی۔ وہی صاحب اپنی یاداشت کا ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے کان میں شدید درد تھا جس کی وجہ سے میں سو نہیں پا رہا تھا کہ میں نے تصور شیخ کر کے سیّدی سرکار کو پکارا کہ میری مدد فرمائیے اور میری تکلیف دور فرمائیے جس کے بعد میں لیٹا تو درد بالکل غائب تھا۔

19 ایمان

ایک مرید کی گاڑی سیالکوٹ سے لاہور آتے ہوئے راستے میں خراب ہو گئی اور چلنے کا نام نہ لے رہی تھی آس پاس آدھی رات کو ویرانے میں کوئی مددگار بھی موجود نہ تھاوہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سیّدی سرکار کو مدد کے لئے پکارا اور فریاد کی کہ آقا میں یہاں ویرانے میں بے یارو مدد گار ہوں للہ میری مدد کو آئیے اور مجھے منزل پر پہنچا دیجئے ۔ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی میں نے سیّدی سرکار کو پکار کر کار کو دوبارہ سٹارٹ کیا تو وہ چل پڑی اور میں بخیر و عافیت گھر پہنچ گیا اور اگلے روز گھر سے ورک شاپ تک بھی گاڑی چلا کر لے گیا ۔ مکینک نے گاڑی کو چیک کیا تو پوچھا کہ آپ کس پر لاد کر گاڑی لائے ہیں جواب دیا کہ چلا کر لایا ہوں تومکینک بولا کہ میں مان ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کار کا جو پرزہ خراب ہوا ہے اس کے بعد گاڑی ایک انچ نہیں چل سکتی یہ ممکن ہی نہیں ۔ اب مکینک کو کون سمجھائے کہ مرید صادق جب یقین کامل سے اپنے شیخ کو پکارتے ہیں تو ضرور ان کی فریاد رسی کی جاتی ہے اور نا ممکن کو ممکن بنا دیا جاتا ہے۔

20 ایمان

ایک مرید بنک میں سیّدی سرکار کے لطف و کرم کی بدولت مینیجر کی پوسٹ پر ہیں اور بارگاہ حیدری میں آپ کا ادب و احترام دیدنی ہوتا ہے آپ ہمیشہ سیّدی سرکار کے قدموں میں زمین پر تشریف رکھتے ہیں ۔ ایک بار آپ کے ناک میں ایک جھلی نما کوئی چیز پیدا ہو گئی جس کا علاج ڈاکٹر حضرات نے آپریشن ہی تجویز کیا ۔ آپریشن کی تاریخ سے دو روز قبل وہ قبلہ و کعبہ سیّدی و سندی کی بارگاہ عالیہ مقدسہ منورہ میں تشریف لائے اور اپنی بیماری کا حال عرض کیا ۔ سیّدی سرکار قطب زماں سلطان الفقراء کا مزاج مبارک اس روز ہمیشہ کی طرح کریمانہ تو تھا مگران حضرت کی قسمت کا ستارہ اپنے بام عروج پر تھا کہ سیّدی سرکار میرے والی و مدد گار نے اپنے دست مبارک سے آستانہ عالیہ حیدریہ قادریہ میں موجود لنگر خانہ کی ادویات میں سے ٹانسلز دوائی کھانے کے لئے ان صاحب کو عطا فرمائی جسے جناب نے قدرے غیر یقینی حالت میں نوش کیا اور جس روز وہ آپریشن کی غرض سے مقررہ وقت پر پہنچے تو قبل از آپریشن ڈاکٹر حضرات نے معائنہ کیا تو جھلی کا نام و نشان تک غائب تھا اور ڈاکٹر صاحبان حضرت سے پوچھ رہے تھے کہ آپ کس لئے تشریف لائے ہیں اور وہ انھیں روپورٹس پڑھا رہے تھے۔ جب کہ کاتب تقدیر اپنے دوست کی سفارش پر آپریشن کا فیصلہ بدل چکا تھا۔

21 ایمان

ایک صاحب کے اہل خانہ سیّدی سے بے انتہا عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور ان کی زندگیوں میں پھر سے بہار سیّدی سرکار کی شفقت کریمانہ کی بدولت ہے ۔ان صاحب کو کاروباری لین دین کے تنازعہ میں جیل جانا پڑا اور ان کی ہمشیرہ کی شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی ۔ عدالت کی تاریخ التوا کی وجہ سے شادی سے قبل ضمانت منظور ہوتی نظر نہ آرہی تھی ان کی ہمشیرہ نے اپنے بھائی کی رہائی کے لئے سیّدی سرکار سے التجا کی۔ سلطان الفقراء نے قدرے جلال میں فرمایا کہ بے فکر رہو وہ آپ کی شادی میں ضرور شریک ہو گا ۔ شادی کی مقرر تاریخ سر پر آگئی جمعہ کا دن تھا اور عدالت سجی ہوئی تھی ۔کاتب تقدید نے اپنے دوست کی زبان مبارک کی لاج رکھنے کے لئے وہ کام کئے جس پر عدالت کا عملہ بھی ششدر ہو کر پوچھنے لگا کہ آپ کے پیچھے کون سی ایسی طاقت ہے کہ آپ کے بیٹے کی رہائی کے لئے ماورائے عدالت سارے کام ہو رہے ہیں ۔بالاخر بہن کی بارگاہ حیدری میں کی ہوئی فریاد رنگ لے آئی اور وہ صاحب رہاہو کر قطب زماں کے فرمان عالیشان کے مطابق اپنی بہن کی شادی میں شریک ہو ئے۔

22 ایمان

ایک مرید کے برادر نسبتی کے پاؤں میں کسی چیز نے کاٹ لیا جس پر وہ چلنے پھرنے سے بھی عاجز تھے اور انھیں کاندھوں پر اُٹھا کر جب سیّدی سرکار حامی بے بس و لاچار کی بارگاہ مقدسہ مطہرہ میں لایا گیا تو آپ کی فقط نگاہ کاملہ کا کمال تھا کہ آپ نے دیکھ کر لسان کن سے ارشاد فرمایا کہ جاؤ صبح تم اپنے پاؤں پر چلو گے ۔اس کے علاوہ آپ سیّدی سرکار نے حضرت سے فرمایا کہ جس کا پاؤں ٹھیک ہو گا یہ دوبارہ یہاں نہیں آئے گا البتہ جس رکشے والے کے ساتھ تم اسے کاندھوں پر اُٹھا کر لے کر آئے ہو وہ اب اس بارگاہ کا ہو جائے گا۔ اور سیّدی سرکار صاحب گنجینہء اسرار کے دونوں فرمان عالیشان حق ثابت ہوئے ۔

23 ایمان

حال ہی میں ہونے والے ایک اہم واقع کا زکرہے کہ جی۔ٹی۔روڈ پر میٹرو ٹرین کے آغاز کے لئے سڑک کی چوڑائی کرنا مقصود تھی جس وجہ سے محکمہ کے لوگوں نے ارد گرد موجود عمارات کو نشان لگانے شروع کر دیے اور تعمیرات گرانے کا نوٹس دینا شروع کر دیا۔ان نشانات کی زد میں ایک مرید کی پوری دوکان آ گئی ۔ آپ نے سیّدی سرکار سے عرض کی تو پیکر لطف و عنایات نے کرم فرمایا اور نظر رحمت فرماتے ہوئے اس مرید کو دوکان کے بچنے کی بشارت عطا فرمائی ۔ کچھ دن بعد جب دوبارہ نشانات کا جائزہ لینے والی ٹیم آئی تو اس بار پوری دوکان کی بجائے آدھی دوکان پر نشان لگا گئے۔ان حضرت نے سیّدی سرکار والی و مددگار سے عرض کی کہ حضور آدھی نہیں مجھے آپ سے پوری دوکان چاہیے ۔واہ کیا کہنے یقین کامل سے مانگنے والے کے۔ دینے والا بھی ؂واصل باللہ فقیر کامل اور مانگنے والے بھی مریدکامل تو پھر بات تو بن ہی جانی تھی اور جب فائنل نشانات لگانے کی باری آئی تو اس بار ساری کی ساری دوکان بچ گئی ۔
Continued.....